Al Khidmat Hospital Gulshan Hadid Karachi along with Nisar Narejo
One day, I went to Al-Khidmat Hospital with Nisar Narejo to collect the reports of the nurses. On the way, Nisar told him a story of his own. He told him that I was alone at home. A girl from the neighborhood came home and asked about my family. They said, the girl closed the door from inside and put her clothes in front of me in my own house and said hurry up, Salim, you are drowning, what should I do in that condition? I asked what did you do, he replied that he could not tolerate me and I started to fuck him. This process continued for 40 minutes. He also sucked in his mouth. Friends, he told me that I was forced to do this because he said that if you don't give me sex, I will make a noise and get drunk..............................................................................................................................................
الخدمت ہسپتال گلشن حدید کراچی میں نثار ناریجو کے ہمراہ
ایک دن میں نثار ناریجو کے ساتھ الخدمت ہسپتال میں نرسوں کی رپورٹ لینے گیا تو راستے میں نثار نے اسے اپنا ایک واقعہ سنایا، اس نے بتایا کہ میں گھر میں اکیلی ہوں، محلے کی ایک لڑکی آئی۔ گھر جا کر میرے گھر والوں کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے لڑکی نے اندر سے دروازہ بند کر لیا اور میرے ہی گھر میں اپنے کپڑے میرے سامنے رکھ دیے اور کہا جلدی کرو سلیم تم ڈوب رہے ہو، اس حالت میں کیا کروں؟ میں نے پوچھا تم نے کیا کیا، اس نے جواب دیا کہ تم مجھے برداشت نہیں کر سکتے اور میں نے اسے چودنا شروع کر دیا، یہ سلسلہ 40 منٹ تک جاری رہا، میں نے اسے برہنہ دیکھا، میری گن پوائنٹ بھی تیار تھی، آگے، پیچھے، اور اس نے بھی چوسا۔ اس کے منہ میں. دوستو، اس نے مجھے بتایا کہ مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ اگر تم مجھے سیکس نہیں کرو گے تو میں شور مچا دوں گا اور نشے میں دھت ہو جاؤں گا۔